جمعرات 15 اکتوبر 2026 - 17:06
سکردو میں سید مقاومت کی یاد میں تعزیتی ریفرنس: شہید حسن نصراللہ کی شہادت سے جذبۂ مقاومت مزید نمایاں ہوا، ڈاکٹر معصومہ جعفری

حوزہ/حوزہ علمیہ جامعۃ الزہراء سکردو بلتستان میں شہیدِ مقاومت سید حسن نصرالله کی یاد میں ایک پروقار تعزیتی ریفرنس منعقد ہوا؛ جس میں اساتذہ اور طالبات نے بھرپور شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ جامعۃ الزہراء سکردو بلتستان پاکستان میں شہیدِ مقاومت سید حسن نصرالله کی یاد میں ایک پروقار نشست منعقد ہوئی؛ جس میں طالبات نے بھرپور شرکت کی۔

تقریب کا آغاز گروہ نورالہدیٰ کی جانب سے قرآن مجید کی چند آیات کی تلاوت سے ہوا، جس کے بعد گروہ عاشقانِ شہداء نے ترانہ پیش کرکے شہداء، بالخصوص شہید سید حسن نصرالله رضوان اللہ علیہ کے مقام و مرتبے کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی یاد تازہ کی۔

اس موقع پر جامعۃ الزہراء کی مدیر ڈاکٹر معصومہ جعفری نے شہید سید حسن نصرالله رضوان اللہ علیہ کی زندگی، جدوجہد اور شہادت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے اپنی گفتگو کا آغاز امام زمانہ عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل کی دعا اور شہید سید حسن نصرالله کی شہادت پر تعزیت و تسلیت کے اظہار سے کیا۔ انہوں نے قرآن اور اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کی احادیث کی روشنی میں شہداء کے مقام و منزلت، قربانی کی قدر و اہمیت اور راہِ خدا میں جہاد کی اہمیت بیان کی۔

ڈاکٹر معصومہ جعفری نے سورۂ توبہ کی آیت 41 کا حوالہ دیتے ہوئے خدا کی راہ میں جان و مال کے ساتھ جدوجہد کی اہمیت پر زور دیا۔ آیتِ کریمہ میں ارشاد ہوتا ہے: انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ.

انہوں نے امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام سے منقول اس روایت کا بھی ذکر کیا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، خدا کی راہ میں ہزار تلواروں کے وار برداشت کرنا بستر پر مرنے سے بہتر ہے۔

جامعہ الزہراء سکردو کی پرنسپل نے نے رہبرِ انقلابِ اسلامی شہید امام خامنہ ای کے بیانات، شہید سید حسن نصرالله کی صاحبزادی کی گفتگو اور خود شہید کے اہم بیانات کی روشنی میں شہادت کے پیغام اور اس کے گہرے اثرات کی وضاحت کی۔

انہوں نے اس سلسلے میں شہید سید حسن نصرالله کی شہادت کے چار اہم اثرات بیان کیے: شہادت کی ثقافت کا فروغ، سازشوں اور مصالحت پسندانہ کوششوں کو چیلنج کرنا، دشمن شناسی اور حقیقی چہروں کا آشکار ہونا اور پیغامِ شہادت کا تسلسل

انہوں نے مزید کہا کہ شہید سید حسن نصرالله کی شہادت نے فلسطین، لبنان اور مقاومتی محاذ سے وابستہ دیگر حلقوں میں ایثار، قربانی، استقامت اور پختہ عزم کی ثقافت کو مزید نمایاں کیا۔

انہوں نے کہا کہ شہید سید حسن نصرالله کی شہادت کے بعد لبنان، بالخصوص جنوبی لبنان میں جذبۂ مقاومت مزید نمایاں ہوا اور ’’لبیک یا حسن نصرالله‘‘ کا نعرہ گونجنے لگا۔ اس شہادت نے دشمن کی شناخت، اس کے کردار اور مقاصد کے جائزے اور موجودہ حالات پر نظرثانی کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔

ڈاکٹر معصومہ جعفری نے شہید سید حسن نصرالله کا اپنے جوان بیٹے کی شہادت پر مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہادت کا تعلق عمر کے کم یا زیادہ ہونے سے نہیں، بلکہ موت کی کیفیت اور اس مقصد و آرمان سے ہے جس کے لیے انسان اپنی جان قربان کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہادت کسی فرد کی زندگی کا محض اختتام نہیں، بلکہ ایک فکر، نظریے، بلند مقصد اور پیغام کے تسلسل اور فروغ کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha